عیادت کے موقع پر ضیافت کا اضافی بوجھ ڈالنا اخلاقی تنزلی کی علامت


عیادت کے موقع پر ضیافت کا اضافی بوجھ ڈالنا اخلاقی تنزلی کی علامت ے-

محمد شاکر عالم علیگ و مظاہری حق ایجوکیشنل اکیڈمی جوکی ہاٹ ار۔             



واقعی انسانی ضمیر جب مردہ اور بے حس ہوجائے، اخلاقی تنزلی معاشرے میں پیوست ہو جائے، خیر وشر کی تمیز کالعدم ہوجائے، ہمدردی وخیر خواہی کا جذبہ محو ہوجائے، خدمت خلق میں بھی اپنا دنیاوی مفاد مضمر ہوتو، کیا کیا نمونے دیکھنے کو ملیں گے آپ خود متحیر  ہو جائینگے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں  گھناؤنا اور بے لذت جرم  کا صدور ہوتارہتاہے لیکن احساس تک نہیں ہوتا،کیونکہ قلوب زنگ آلود ہوچکے ہوتے ہیں،غفلت کا پردہ ایسا دبیز ہوتا ہے کہ قلب گناہ پر ملامت کرنے کو آمادہ نہیں ہوتا؛چنانچہ سید الاولین و الآخرین 

فخر رسل ﷺ نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ ہر ذی شعور فرد بشر کیلئے ایک سبق آموز پیغام ہے کہہ: جب شرم وحیاء باقی نہ رہے تو جو چاہے کر،اذا لم تستحی فاصنع ماشئت(بخاری شریف 6120،)حیاء کا ختم ہو جانا، مطلب اسکا ضمیر ایسا پلید ہوگیاہیکہ،وہ شرم وحیاء کی چادریں تار تار کردیتاہے ,لیکن شعور وادراک تک نہیں ہوتا، عزت وعصمت کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں ؛لیکن  دل ❤️ میں ذرا سا بھی خلش وٹیس تک محسوس نہیں ہوتا،عزت وناموس کی پرواہ نہیں،سامنے والے کس کلفت ومصیبت، بیماری وپریشانی اور معاشی تنگی میں مبتلا ہے اسکا کوئی خیال ولحاظ نہیں،بس ہرجگہ دعوت ومرغ مسلم سے مطلب ، مفاد عامہ کو ترک کرکے اپنے مفاد کا متلاشی رہتا ہے- 

بیمار پرسی وعیادت ایک عظیم اسلامی عبادت وسنت ہی نہیں بلکہ خدمت انسانیت کی اعلیٰ مثال ونمونہ بھی ہے،لیکن اس عظیم روحانی عبادت کو بھی ہم نے مہمان نوازی بنادیا،طعام ماحضر میں  ذرا سی کمی سے مریض کی لعن طعن سے بھی گریز نہیں کرتے، شکوہ شکایت پر اتر جاتے ہیں،ہمارا ضمیر کتنا بیدار مغز ہے؟ ہرشخص فہم وادراک رکھتا ہے ۔

آئیے زیر نظر تحریر کے ذریعے اپنا محاسبہ کرتے ہیں-

مرض و بیماری ایک اعتبار سے نعمت ہے؛ کیونکہ بیماری  عفو معصیت اور رفع درجات کا سبب ہے، اس سے معصیات کی صفائی ہوتی ہے،جنت میں درجات بلند ہونگے،حضرت ابوسعید خدری ؓاور حضرت ابو ہریرہ ؓرسول اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:کہ مسلمان کو جو تھکان،بیماری،رنج والم،کوئی تکلیف اور غم حتی کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تکلیف کی وجہ سے اس کی خطاؤں کو معاف فرمادیتے ہیں (رواہ البخاری،کتاب المرضی:5641)

،نیز بیماری امتحان و آزمائش بھی ہے؛چونکہ دنیا ہے ہی دارالامتحان ، یہاں خالق السمٰوات والارض کی طرف سے ابتلاء و آزمائش ہوتی رہتی ہے، تاکہ انسان خدا کو بھولے نہیں، اور خالق السمٰوات والارض کی ذات عالی سے بے پرواہ نہ ہو ،نیزاس میں فرماں بردار و نافرمان میں کوئی امتیاز نہیں،ایسا نہیں ہیکہ جس کو خداوند عالم کسی مرض میں مبتلا کردے تو وہ اللہ کی نظر میں مبغوض وبرا ہوگیا، اللہ نے اسکی شدید گرفت کرلی؛ جیسا کہ ہمارے معاشرے کےکم فہم افراد کی یہ عام سوچ ہے،اور بیمار فردکی  طعن وتشنیع پر اتر جاتے ہیں، اگر ایسا ہوتا تو حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بیماری سے دو چار نہیں ہوتے ؛حالانکہ یہ تاریخی وسچی حقیقت ہیکہ کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی بیمار ھوۓ،سید الانبیاء والمرسلین ﷺ بھی بیماری میں مبتلا ہوۓ،مسجد تک خود سے چل کر تشریف نہیں لا پاتے تھے،تو کیا معاذ اللہ حضرات انبیاء برگزیدہ بندے نہیں تھے،برے تھے العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ ایسا ہرگزنہیں،اس لیۓ ہم لوگ جو بیماری کو کسی کے برا ہونے سے  جوڑ دیتے ہیں،اس معاشرتی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، خیر تحریر کا رخ دوسری جانب جارہاہے اسلیۓ اصل موضوع کی طرف آتے ہیں،

 اسلامی عقیدہ و نظریہ ہیکہ

بیماری اور علاج دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، جب بیماری آۓ تو مریض کو صبر کرنا چاہیے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،ثبات قدمی کا مظاہرہ پیش کرے،تقدیر الہٰی پر راضی رہے،حرف شکایت زبان پر نہ لاۓ،جزع فزع نہ کرے،اور یہ یقین رکھے کہ اللہ حکیم وعلیم ہے وہ بیماری دیتا ہے تو شفاء بھی عطاء کرےگا انشاءاللہ،تاہم اس مریض کے ساتھ ہمارا کیا طرز عمل اور سلوک ہونا چاہیے اور اسکو انجام دینے میں ہم سے کیا چوک ہورہی ہے اسکی بھی جانچ پڑتال کر لی جاۓ -

شریعت اسلامی ایک پاکیزہ دین ہے،جس میں انسانیت کے ساتھ خیرخواہی کاپیغام دیاگیا ہے،تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی طرح قرار دیا گیا ہے (المسلمون کجسد واحد حدیث)دین محمدی کا پیغام یہ ہیکہ ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے تو دوسرے مسلمان کو بھی اسکا احساس ہواور اسکا بھی دل تڑپ اٹھے،لہذااگر کو ئ بیمار ہو جائے تو اسکی عیادت وتیمارداری کی جاۓ،اسکے ساتھ اخوت ومحبت اورہمدردی کا اظہار کیا جائے، تسلی و تشفی بخش کلمات کہے، جس سے اسکی ہمت بڑھے، اسکے حوصلہ میں اضافہ ہو، اسکی ڈھارس باندھےاور ایسا طرزعمل اختیار کیا جائے جس سے اسکی بیماری میں کمی آۓ اور وہ اپنے آپ میں ہلکہ محسوس کرے،آقائے نامدار تاجدار بطحاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہیکہ:،ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرچھ حقوق ہیں،حضرات صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کیایارسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ١) جب تم اس سے ملوتواسکوسلام کرو(٢) جب دعوت دے تو قبول کرو(٣)جب کوئی مسلمان تم سے نصیحت طلب کرے تو اسکو اچھی نصیحت کرو(٤) جب کوئی مسلمان چھینکے اور الحمدللہ کہے تو اسکا جواب دو (٥) جب کؤی بیمار ہوتو اسکی عیادت اور تیمارداری کرو (٦) اور جب انتقال ہوجائے تو اسکے جنازے کے ساتھ چلو-

عن ابی ہریرۃ ؓ:قال قال رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) حق المسلم علی المسلم ست،قیل ماھن یارسول اللہ ؐ! قال: اذالقیتہ فسلم،واذادعاک فأجبہ واذااستنصحک فانصح لہ ،واذا عطس فحمداللہ فشمتہ، واذامرض فعدہ ،واذامات فاتبعہ(جامع الأصول رقم:4733،شعب الایمان رقم/9167)

نیز،حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ:میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو بھی مسلمان صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کیلئے جاتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں اوراگر وہ شام کےوقت عیادت کیلئے جاتا ہے توصبح تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ مخصوص ہوتا ہے 

عن علی قال: سمعت رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم -یقول: مامن مسلم یعود مسلما غدوۃ الاصلی علیہ سبعون الف ملک حتی یمسی وان عادہ عشیۃ الا صلی علیہ سبعون الف ملک حتی یصبح وکان لہ خریف فی الجنۃ (کنز العمال رقم،25129)


یہ فرمودات سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ  وسلم ہیں، آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ پیارے آقا صلی االلہ علیہ وسلم  کتنے پیارے اور شفقت بھرے انداز میں مریض کی عیادت ومزاج پرسی کی فضیلت بیان فرما رہے ہیں اور اپنی امت کو پیغام دے رہے ہیں کہ کسی مرض میں مبتلا شخص کی مدد کرو،انکی مزاج پرسی خدمت خلق میں سےہے،

بیماری و مصیبت میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ نبھایا جائے اور تعاون ومدد نہ کی جائے تو پھر انسان ایک دوسرے کے کب کام آئینگے ،الحاصل لب لباب یہ ہیکہ بیمار کی تیمارداری کے ذریعے مصیبت دور کیا جائے، اب اگر مزاج پرسی ہی درد سربن جائے تو،یہ طرفہ تماشا اور باعث تعجب اور دل میں چبھنے والے بات ہیکہ نہیں ،آپ پوچھیں گے ارے بھائی مزاج پرسی سے تو مصیبت ،رنج والم میں کمی آتی ہے,یہ کونسا جدید فتویٰ آپ جاری کر رہے ہیں،ہے نا حیرت انگیز بات،لیکن نہیں  ،،لگتا ہے آپ کسی کی عیادت کیلئے قدم رنجہ نہیں ہوۓ ہیں یا تشریف تو لے گئے ہیں لیکن آپنے نے محسوس نہیں کیاہوگا،یا آپ بذات خود بے خبری میں اس جرم عظیم میں مبتلا،ہیں، اگر آپ سچے پکے مسلمان ہیں تو ایک مرتبہ دل کی آنکھوں سے دیکھ کر آئیے بیچارہ مریض درد سے کراہ رہاہے،وہ اٹھنے بیٹھنے سے قاصر ہے،زبان لڑکھڑا رہی ہے، اہل خانہ اسکی تیمارداری میں مصروف اور مشغول  ہیں،تاہم معزز مہمان مکرم صاحب کو گرم چائے چاہیے ، ظہرانہ وعشائیہ میں مرغ  مسلم نہیں تو کم از کم لحم جاموس ہی چل جائے گا،اس سے‌ کم کی کوئی وسعت و گنجائش نہیں،اگر کمی آگئی تو  کچھ ناہنجار وکم فہم  وعقل و فہم سے پیدل وعاری افراد کوستے نہیں تھکتے، شکوہ وشکایت لئے گھر واپس آتے ہیں اہل خانہ بیمار کے علاج کے اخراجات کو جٹانے میں مصروف ہیں ،اسکے لئے وہ سرگرداں ہیں اور اسباب مہیا کررہے ہیں، بھلا بتائیے ان مصیبت کے مارے افراد پر پرلطف مہمان نوازی کا بوجھ ڈالنا کہاں کی انسانیت ہے اور یہ کیسی عیادت ہے کیا انکومزید معاشی تنگی میں مبتلا کرنا نہیں ہے،ایک سچے مسلمان وانسان کی طبیعت اسکو گوارہ کر سکتاہے؟ میری تحریر کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہیکہ آدمی بیمار پرسی کیلئے جاۓ اور اہل خانہ طعام ماحضر پیش کردے تو اسکا تناول فرمانا ناجائز وحرام ہے بلکہ تحریر کا منشاء یہ ہیکہ عیادت کو ضیافت کا ذریعہ نہ بنائے،کھلانے پلانے میں کچھ کمی نظر آۓ تو اسکی شکایت نہ اڑائ جاۓ،فرمائش کا بوجھ نہ ڈالاجاۓ،مریض کی عیادت کا مقصد  اسکوتسلی دینا حوصلہ بڑھانا اسکی پریشانی کو کم کرناہے،مریض پر ضیافت اور مہمان نوازی کے انتظامات کا بوجھ ڈالنا اسپر دباؤ ڈالنا،یا ایسی امید رکھنا اسلام واخلاقی اعتبار سے سخت ناپسندیدہ اور قطعی غلط ہے اور سراسر ناانصافی ہے ،مریض کے پاس جائیں تو کچھ تحفہ تحائف پھل وغیرہ لیکر جائیں، ہوسکے تو رقوم سے چپکے ومخفی طورپر تعاون پیش کریں، فرمائشیں ساتھ لیکر نہ جائیں،بیمار قابل رحم ہوتاہے  اسکی صحت وسلامتی کیلئے دعاء کریں، انکو دلاسہ دیں کہ آپ گھبراہٹ محسوس نہ کریں انشاءاللہ بہت جلد تندرست ہوجائیں گے ،

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جوبھی مسلمان اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کیلئے جاے پھر سات مرتبہ یہ دعاء پڑھے أسأل اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک   تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور شفاء عطاء فرمائینگے الا یہ ہیکہ اسکی موت کا وقت قریب آجاۓ

یاد رکھیے عیادت ضرور کیجئے،اس سے باہمی تعلقات میں مضبوطی آتی ہے،عداوت وکینہ میں کمی آتی ہے،ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،مریض کی مزاج پرسی کرنے سےصحت وتندرستی کی قدر معلوم ہوتی ہے،لیکن عیادت میں ضیافت کی امید وخواہش مت رکھیے، اپنی فرمائیش لیکر مت جائیے،لوگ کہتے ہیں ارے بھائی اہل خانہ انتظام کرلیتے ہیں تو ہم کیاکریں،ہاں بھئ چاۓ ناشتہ کا تھوڑا انتظام ہوجائے،طعام ماحضر پیش کردے تو اس کے تناول فرمانے میں کوئی مضائقہ وحرج نہیں؛ بلکہ دلجوئی کیلئے استعمال کرہی لینا چاہیے تاکہ انہیں سبکی محسوس نہ ہو،حرج تو تب ہے جب بات پرلطف ضیافت کی  آتی ہے،نہ ہونے پر شکوہ شکایت زبان پر آجاتی ہے یہ نامناسب و نامنظور ہے،اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مریض کے اہل خانہ جگ ہنسائی سے بچنے کیلئے ضیافت پر مجبور ہوتے ہیں،وسعت و گنجائش نہ ہوتے ہوئے بھی نا چاہتے ہوئے بھی انتظام کرنے پر مجبور محض ہوتے ہیں،تاکہ عیادت میں آنے والے کو شکایت کا موقع نہ ملے،یہ ہمارے معاشرے کی ایک سچے حقیقت ہے،اسمیں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے 

کریم رب ہمیں صحیح عقل وفہم اور خدمت خلق کا جذبہ عطاء فرمائے آمین یارب العالمین

SHARE

Milan Tomic

Hi. I’m Designer of Blog Magic. I’m CEO/Founder of ThemeXpose. I’m Creative Art Director, Web Designer, UI/UX Designer, Interaction Designer, Industrial Designer, Web Developer, Business Enthusiast, StartUp Enthusiast, Speaker, Writer and Photographer. Inspired to make things looks better.

  • Image
  • Image
  • Image
  • Image
  • Image
    Blogger Comment
    Facebook Comment