ایک سچ مقرر کیا ہے رب
دنیا کی پیدائش جب سے ہے جتنے مخلوق دنیا میں پائے جاتے ہیں انسان کی شکل میں ہو یا اور دوسری مخلوق نظروں میں آئے یا نہیں اس کی ایک حقیقت ہو یا نہیں پر اللہ نے اسے مخلوق بنایا ہے تو ان کے مقدر میں ایک سچ
ضرور ہے وہ ہے موت موت کی سچائی چاند ستارے سورج دودھ پانی آگ کی طرح شفافیت اور حقانیت رکھتی ہے اسکے وقوع میں کسی کو کوئی شک وشبہ نہیں ہےہر ذی روح کو موت کا مزا چکھنا پڑیگا وقت پورا ہوگا اسکو یہ
دنیا چھوڑنا پڑیگا نہ چاہ کر بھی انسان اور دوسری مخلوق اسکے حکم کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیا آپ بھی اس بات کو مانتے ہیں سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں
यहोवा ने एक सच्चाई तय की है
सृष्टि के निर्माण से लेकर अब तक संसार में जितने भी जीव-जंतु पाए जाते हैं, चाहे वे मनुष्य के रूप में हों या अन्य जीव-जंतु, वे सामने आए या न आए, हकीकत है या नहीं, लेकिन अल्लाह ने उसे बनाया है, तो उनके भाग्य में एक सच्चाई है।
वह है मृत्यु का सत्य, चंद्रमा, तारे, सूर्य, दूध, जल, अग्नि की पारदर्शिता और सत्यता। और अन्य प्राणी उसकी आज्ञा के आगे घुटने टेकने को मजबूर हैं। आप भी इस पर विश्वास करते हैं और समझते हैं?
The Lord has set a truth
Ever since the creation of the world, all the creatures that are found in the world, whether in the form of human beings or other creatures, whether they come into view or not, whether it is a reality or not,
but Allah has created it, then there is a truth in their destiny. That is the truth of death, the moon, the stars, the sun, the milk, the water, the transparency and
truthfulness of fire. And other creatures are forced to kneel before His command. Do you also believe in this and understand it?
🌱 انسان کی پیدائش — ایک سچی کہانی
ایک بچہ اس دنیا میں پیدا ہوا۔ جب وہ پیدا ہوا تو اس کے پاس نہ کوئی دولت تھی، نہ گھر کی ملکیت، نہ عہدہ اور نہ ہی دنیا کی کوئی بڑی پہچان۔ وہ صرف ایک کمزور سا انسان تھا، جسے دوسروں کی مدد کی ضرورت تھی۔
اس کی ماں نے اسے سینے سے لگایا اور باپ نے اسے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ننھا سا بچہ ایک دن بڑا ہو کر دنیا کی دوڑ میں شامل ہو جائے گا۔
بچہ بڑا ہونے لگا۔ پہلے اس نے چلنا سیکھا، پھر بولنا، پھر پڑھنا اور کام کرنا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ جوان ہو گیا۔ اس کے دل میں بڑے بڑے خواب پیدا ہوئے۔ اس نے مال کمانے، گھر بنانے اور اپنی زندگی بہتر کرنے کے لیے دن رات محنت شروع کر دی۔
لیکن دنیا کی مصروفیات میں ایک چیز وہ بھول گیا: اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔
ایک دن وہ اپنے ایک بزرگ کے پاس بیٹھا تھا۔ بزرگ نے اس سے کہا:
“بیٹا! تم اپنی پوری زندگی کس چیز کے پیچھے لگا رہے ہو؟”
اس نے جواب دیا:
“میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس اتنا مال ہو جائے کہ مجھے کبھی کسی چیز کی فکر نہ رہے۔”
بزرگ مسکرائے اور بولے:
“بیٹا! مال ضرور کماؤ، لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تمہارے پاس وقت تو ہوگا، مگر زندگی نہیں ہوگی۔”
یہ بات اس کے دل میں اتر گئی۔
کچھ عرصے بعد وہ بیمار پڑ گیا۔ اس نے اپنی زندگی کو پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ اس نے بہت سا وقت ایسی چیزوں میں گزار دیا جن کی آج کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اسے یاد آیا کہ کتنی نمازیں اس نے سستی کی وجہ سے چھوڑیں، کتنے رشتے مصروفیت کی وجہ سے نظرانداز کیے اور کتنے نیک کام یہ سوچ کر مؤخر کیے کہ “بعد میں کر لوں گا۔”
مگر زندگی کسی کے لیے “بعد میں” کا وعدہ نہیں کرتی۔
اس نے اپنے گھر والوں سے کہا:
“اگر مجھے دوبارہ موقع ملتا تو میں اپنی زندگی اللہ کی اطاعت، والدین کی خدمت، نماز، علم اور لوگوں کی بھلائی میں گزارتا۔”
مگر انسان کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہ واپس نہیں آتا۔
🌹 کہانی کا سبق
انسان دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی دنیا سے جاتا ہے۔ اس کے ساتھ صرف اس کے اعمال جاتے ہیں۔
اس لیے زندگی کو معمولی نہ سمجھیں۔
نماز کو مؤخر نہ کریں۔
والدین کی قدر کریں۔
رشتوں کو وقت دیں۔
حلال روزی کمائیں۔
لوگوں کے ساتھ بھلائی کریں۔
اور ہر دن یہ سوچ کر گزاریں کہ شاید یہی ہماری زندگی کا آخری دن ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔”
(سورۂ آل عمران: 185)
زندگی چند دن کی مہمان ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا سے جائے تو اللہ اس سے راضی ہو۔

Blogger Comment
Facebook Comment